کتنی پوسٹ کریں: اصل سوال گنتی کا نہیں، وقت کا ہے
رومن میں یہ سوال لکھیں تو دس میں سے چھ تجاویز گنتی کو ہٹا کر "کتنے بجے" کر دیتی ہیں۔ یہ صفحہ اسی سوال کا جواب دیتا ہے، اور بتاتا ہے کہ رفتار کا کوئی عدد کیوں موجود نہیں۔
Sarah Johnsonپاکستان سے رومن میں یہ سوال لکھ کر دیکھیں کہ ایک دن میں کتنی پوسٹ کرنی چاہیے۔ جو دس تجاویز آتی ہیں ان میں سے چھ گنتی کو ہٹا کر ایک دوسرا لفظ رکھ دیتی ہیں: کتنے بجے۔ ایک میں تو "صبح" بھی لکھا ہوا آتا ہے۔
یعنی سرچ انجن آپ کا سوال درست کر رہا ہے۔ لوگ رفتار نہیں پوچھ رہے، وہ گھنٹہ پوچھ رہے ہیں۔ اور یہ اچھی خبر ہے، کیونکہ گھنٹے کا جواب موجود ہے جبکہ گنتی کا نہیں۔
پہلے وہ بات جو رہنمائیاں نہیں کہتیں: عدد ہے ہی نہیں
انگریزی مضامین میں آپ کو خانوں والی فہرستیں ملیں گی: ذاتی کھاتہ ہفتے میں دو سے تین، کاروبار تین سے چار، اور اسی طرح۔ یہ اعداد کہاں سے آتے ہیں؟ کہیں سے نہیں۔ انسٹاگرام نے آج تک کوئی ایسی تعداد شائع نہیں کی، اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ رفتار کا اس کے نظام پر کیا اثر ہے۔
جو بات کہی جا سکتی ہے وہ سیدھی ہے: زیادہ پوسٹ کا مطلب زیادہ مواقع ہیں، بہتر نتیجہ نہیں۔ ہر پوسٹ ایک الگ کوشش ہے۔ دس کوششوں میں سے دو چل جائیں تو یہ بیس کوششوں میں سے چار سے کم ہے، بشرطیکہ بیسوں کوششیں اسی معیار کی ہوں۔ اور یہی شرط اکثر ٹوٹتی ہے۔
اس لیے عدد اپنی صلاحیت سے نکالیں، کسی فہرست سے نہیں۔ ایک ہفتے میں آپ کتنی ایسی پوسٹ بنا سکتے ہیں جن پر آپ کو خود شرمندگی نہ ہو؟ وہی آپ کا عدد ہے۔
اب اصل سوال: کتنے بجے
یہ وہ حصہ ہے جس کا جواب واقعی نکل سکتا ہے، اور یہ آپ کے اپنے کھاتے کے اندر موجود ہے، کسی مضمون میں نہیں۔
مگر ترتیب اہم ہے، اور تقریباً سب اسے الٹا کرتے ہیں۔ لوگ سیدھا "سرگرم اوقات" والا خانہ کھول کر سب سے اونچا ستون دیکھ لیتے ہیں۔ اس سے پہلے ایک اور خانہ دیکھنا ضروری ہے: آپ کے فالوورز کہاں کے ہیں۔
وجہ یہ ہے۔ اگر آپ کے پڑھنے والوں کا ایک بڑا حصہ ملک سے باہر ہے، جو اردو میں لکھنے والے بہت سے کھاتوں کے ساتھ ہوتا ہے، تو سرگرمی والا نقشہ ایک لکیر نہیں بلکہ دو الگ چوٹیوں کا اوسط ہے۔ اوسط اکثر ایسا وقت بتاتا ہے جس پر کوئی گروہ پوری طرح جاگ ہی نہیں رہا ہوتا۔
عملی ترتیب یہ ہے:
- پہلے ملکوں اور شہروں کی فہرست دیکھیں۔ اگر ایک ہی ملک بھاری اکثریت میں ہے تو معاملہ آسان ہے اور آپ سیدھا اگلے قدم پر جا سکتے ہیں۔
- اگر دو ملک نمایاں ہیں تو ایک کو چنیں، اوسط کو نہیں۔ فیصلہ اس بنیاد پر کریں کہ آپ کس کے لیے لکھ رہے ہیں، نہ کہ کون سا عدد بڑا ہے۔ ایک ہی وقت میں دونوں کو پکڑنے کی کوشش عام طور پر دونوں کو کھو دیتی ہے۔
- پھر اس گروہ کے سرگرم گھنٹے دیکھیں اور اس سے تھوڑا پہلے پوسٹ کریں۔ عین چوٹی پر ڈالنے کا مطلب ہے کہ آپ سب سے زیادہ بھیڑ میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس سے کچھ پہلے ڈالی گئی پوسٹ کے پاس اپنی جگہ بنانے کا وقت ہوتا ہے۔
اور ایک بات جو تجاویز میں صاف نظر آتی ہے: بہت سے لوگ صبح کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ صبح کے وقت کا اپنا فائدہ ہے، کیونکہ اس وقت کم لوگ ڈالتے ہیں، مگر یہ صرف اسی صورت میں کام کرتا ہے جب آپ کے سامعین بھی اسی وقت میں ہوں۔ یہ ایک قاعدہ نہیں، ایک تجربہ ہے جو آپ کے اپنے اعداد کو دیکھ کر ہی طے ہو سکتا ہے۔
تسلسل کا مطلب کیا ہے اور کیا نہیں
"مستقل مزاجی" ہر رہنمائی میں لکھی ہوتی ہے اور تقریباً کہیں سمجھائی نہیں جاتی۔ اس کے بارے میں دو باتیں طے کر لیں:
- ایک دن کا ناغہ کوئی سزا نہیں لاتا۔ ایسا کوئی نظام موجود ہونے کا ثبوت نہیں کہ لگاتار دنوں کی گنتی ٹوٹنے پر کچھ کم ہوتا ہو۔ جو چیز واقعی ہوتی ہے وہ سادہ ہے: جس دن آپ کچھ نہیں ڈالتے اس دن دکھانے کو کچھ نہیں ہوتا۔ بس اتنا۔
- اصل نقصان مہینوں کے وقفے سے ہوتا ہے۔ اگر تین ہفتے خاموشی کے بعد آپ واپس آتے ہیں تو آپ کے پڑھنے والوں کی عادت ٹوٹ چکی ہوتی ہے، اور عادت واپس بننے میں وقت لگتا ہے۔ یہ لوگوں کا معاملہ ہے، کسی نظام کا نہیں۔
اس لیے ایسی رفتار چنیں جو مصروف ہفتے میں بھی نبھ جائے، نہ کہ وہ جو فارغ ہفتے میں اچھی لگتی ہے۔
ایک ترتیب جو چھ ہفتے چلائی جا سکتی ہے
پیمائش کے بغیر رفتار بدلتے رہنا سب سے عام غلطی ہے۔ ایک سیدھا طریقہ:
- ایک عدد طے کریں، مثلاً ہفتے میں تین۔ یہ عدد اپنی صلاحیت سے نکالیں۔
- ایک گھنٹہ طے کریں، اوپر والی ترتیب سے۔
- چھ ہفتے تک دونوں نہ بدلیں۔ اس سے کم مدت میں جو فرق نظر آتا ہے وہ عام اتار چڑھاؤ ہوتا ہے، آپ کے فیصلے کا نتیجہ نہیں۔
- چھ ہفتے بعد صرف ایک چیز بدلیں، دونوں نہیں۔ ورنہ آپ کو کبھی پتہ نہیں چلے گا کہ فرق کس سے پڑا۔
اعداد ہر روز دیکھنے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اور نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ ہر تیسرے دن ترتیب بدل دیتے ہیں۔
جو اس صفحے سے ثابت نہیں ہو سکتا
اوپر جہاں جہاں انسٹاگرام کے نظام کی بات آئی ہے، وہ اندازہ ہے۔ انسٹاگرام یہ نہیں بتاتا کہ وہ کس چیز کو کتنا وزن دیتا ہے، اور جو لوگ یہ بتاتے ہیں ان کے پاس بھی وہی اندازے ہیں جو باہر سے لگائے گئے ہیں۔ آپ کے اپنے کھاتے کے اعداد اس معاملے میں کسی بھی مضمون سے زیادہ معتبر ہیں، اور وہ مفت ہیں۔
وقت طے کرنے کے بعد اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ ہر بار اسی وقت جاگ کر بیٹھا کیسے جائے۔ اس کا جواب وقت مقرر کرنے والے اوزاروں والے صفحے پر ہے۔ اور پوسٹ ڈالنے کے بعد کے پہلے گھنٹے کی بات لائکس والے صفحے پر۔



