پوسٹ کا وقت مقرر کرنا: پہلے یہ دیکھیں کہ مفت والا راستہ کہاں ختم ہوتا ہے
انسٹاگرام خود پوسٹ، کیروسل اور ریل کا وقت مقرر کر لیتا ہے اور اس کے پیسے نہیں لگتے۔ سوال یہ نہیں کہ کون سا اوزار بہتر ہے، سوال یہ ہے کہ آپ کو اس سے آگے کچھ چاہیے بھی یا نہیں۔
Avery Bennettاس موضوع پر تقریباً ہر مضمون ایک ہی شکل کا ہے: مفت والے درجے کا ایک خانہ، پیسے والے درجے کا دوسرا خانہ، اور درمیان میں چند نشان۔ ان میں سے کوئی وہ بات نہیں لکھتا جو فیصلہ کرتی ہے۔
وہ بات یہ ہے: انسٹاگرام خود یہ کام کرتا ہے۔ پوسٹ، کیروسل اور ریل کا وقت پہلے سے مقرر کیا جا سکتا ہے، تقریباً ڈھائی مہینے آگے تک، اور اس کے پیسے نہیں لگتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوگوں کو اس کا شک ہے: انگریزی تلاش کی تجاویز میں تیسرے بیرونی اوزار کے ساتھ ساتھ میٹا اور فیس بک بھی آتے ہیں۔
مفت والا راستہ، جو پہلے سے آپ کے پاس ہے
اس کی ایک ہی شرط ہے اور وہ کھاتے کی قسم ہے۔ عام ذاتی کھاتے پر یہ خانہ نہیں ملتا۔ پیشہ ورانہ کھاتے پر مل جاتا ہے، اور کھاتے کی قسم بدلنا مفت ہے اور واپس بھی کی جا سکتی ہے۔
اس راستے سے جو ہو جاتا ہے:
- عام پوسٹ، کئی تصویروں والی پوسٹ اور ریل، تینوں کا وقت پہلے سے طے کیا جا سکتا ہے۔
- ایک ہی جگہ سے فیس بک اور انسٹاگرام دونوں کے لیے قطار بنائی جا سکتی ہے، اگر دونوں جڑے ہوں۔
- مقرر شدہ پوسٹ کو وقت آنے سے پہلے بدلا یا ہٹایا جا سکتا ہے۔
زیادہ تر لوگوں کے لیے یہاں بات ختم ہو جاتی ہے۔ اگر آپ ایک کھاتہ چلاتے ہیں اور ہفتے میں تین چار چیزیں ڈالتے ہیں تو آپ کو کسی اور چیز کی ضرورت نہیں، اور اس صفحے کا باقی حصہ آپ کے لیے نہیں ہے۔
یہ راستہ کہاں ختم ہوتا ہے
تین جگہوں پر، اور یہی وہ تین وجوہات ہیں جن پر لوگ پیسے دیتے ہیں:
- کہانیاں۔ یہ سب سے بڑا خلا ہے۔ کہانیوں کا وقت مقرر کرنے کا کوئی بھروسے کے قابل سرکاری راستہ نہیں ہے۔ جن لوگوں کا سارا کام کہانیوں پر چلتا ہے، ان کے لیے یہی اکیلی وجہ کافی ہے۔
- کئی کھاتے ایک ساتھ۔ ایک ایک کر کے کھاتے بدلنا دو کھاتوں تک قابلِ برداشت ہے۔ اس کے بعد وقت ضائع ہونے لگتا ہے۔
- ٹیم اور منظوری۔ اگر لکھنے والا کوئی اور ہے اور منظوری کسی اور کی ہے تو مفت راستے میں یہ درمیانی قدم موجود ہی نہیں۔
ان تینوں میں سے کوئی بھی آپ پر لاگو نہ ہو تو خرچ کی کوئی وجہ نہیں بنتی، چاہے فہرست میں کتنے ہی نشان لگے ہوں۔
ایک رکاوٹ جو ان مضامین میں کبھی نہیں لکھی جاتی
یہ سب اوزار مہینے کے حساب سے ڈالر میں پیسے لیتے ہیں اور ان کے لیے بین الاقوامی ادائیگی کا کوئی ذریعہ چاہیے۔ پاکستان سے پڑھنے والوں کی ایک بڑی تعداد کے لیے یہی پہلی اور آخری رکاوٹ ہوتی ہے، اور یہ خصوصیات کی فہرست سے پہلے آتی ہے، بعد میں نہیں۔
اس لیے ترتیب الٹی رکھیں: پہلے یہ دیکھیں کہ ادائیگی ممکن ہے یا نہیں، پھر یہ کہ ضرورت واقعی ہے یا نہیں، اور خصوصیات کا موازنہ سب سے آخر میں۔ ورنہ آپ ایک ایسی چیز چن لیں گے جو خریدی ہی نہیں جا سکتی۔
اور مفت آزمائشی مدت والے عرصے کا خیال رکھیں۔ اگر ادائیگی کا ذریعہ جڑا ہوا ہے تو مدت ختم ہوتے ہی رقم کٹ جاتی ہے، اور واپسی کی کوئی صورت عام طور پر نہیں ہوتی۔
خودکار پوسٹ اور خودکار عمل: یہ ایک چیز نہیں
یہ فرق سمجھ لینا ضروری ہے کیونکہ دونوں کو ایک ہی لفظ سے پکارا جاتا ہے۔
وقت مقرر کرنے والا اوزار انسٹاگرام کے اپنے سرکاری راستے سے جڑتا ہے۔ اس راستے میں لائک اور فالو جیسے کام موجود ہی نہیں ہیں۔ یعنی ایسا اوزار آپ کی طرف سے کسی کو فالو کر ہی نہیں سکتا، چاہے وہ چاہے بھی۔ یہ اس کی نیت کا معاملہ نہیں، بلکہ اس دروازے کی ساخت کا ہے۔
اس کے مقابلے میں وہ اوزار جو آپ سے کہتے ہیں کہ اپنے کھاتے میں ان کے اندر داخل ہوں، وہ سرکاری دروازے سے نہیں آ رہے۔ وہ آپ کی جگہ کھڑے ہو کر ایپ چلا رہے ہوتے ہیں، اور اسی لیے وہ فالو اور لائک بھی کر سکتے ہیں۔
عملی جانچ ایک سوال کی ہے: جڑنے کے لیے آپ کو انسٹاگرام کے اپنے صفحے پر بھیجا گیا، یا اسی اوزار کے اندر ایک خانے میں؟ پہلی صورت ٹھیک ہے، دوسری الگ قسم ہے۔
فیصلہ ایک سوال میں
اوزاروں کی فہرست بنانے کے بجائے اپنے آپ سے یہ پوچھیں: آخری مہینے میں مقررہ وقت پر پوسٹ نہ ہونے کی اصل وجہ کیا تھی؟
اگر جواب یہ ہے کہ آپ اس وقت مصروف تھے، تو مفت والا راستہ اسے حل کر دیتا ہے۔ اگر جواب یہ ہے کہ مواد ہی تیار نہیں تھا، تو کوئی بھی اوزار اسے حل نہیں کرے گا، کیونکہ مسئلہ قطار کا نہیں بلکہ اس سے پہلے کا ہے۔ اور جو چیزیں آدھی بنی ہوئی پڑی ہیں ان کے بارے میں ڈرافٹ اور آرکائیو والا صفحہ زیادہ کام کا ہے۔
گھنٹہ چننے کا طریقہ وقت اور رفتار والے صفحے پر ہے۔



