اصلی اور نقلی فالوورز: فرق تقسیم کا ہے، اخلاق کا نہیں
یہ بحث اکثر نصیحت بن جاتی ہے۔ اصل میں یہ ایک سادہ سا حساب ہے: اوپر والا عدد وہی رہتا ہے اور نیچے والا بڑھ جاتا ہے۔ اور اردو میں یہ لفظ تلاش پر فارسی میں جواب دیتا ہے۔
Michael Chenاردو میں صرف "فالوورز" لکھ کر تلاش کریں تو جو دس تجاویز آتی ہیں وہ سب فارسی میں ہیں: فالوور چیست، فالوورز یعنی چی، فالوور به انگلیسی۔ حتیٰ کہ "فالوور فیک" بھی، جو عین اسی صفحے کا موضوع ہے۔
یہ صرف ایک دلچسپ بات نہیں، ایک اشارہ ہے: اس موضوع پر اردو میں کہیں سیدھی بات نہیں لکھی جا رہی۔ جو لکھی جاتی ہے وہ نصیحت ہوتی ہے، اصلی اچھے اور نقلی برے۔ حالانکہ یہ اخلاق کا نہیں، تقسیم کا معاملہ ہے، اور اسے حساب کی طرح دیکھنا زیادہ کام آتا ہے۔
حساب، مکمل شکل میں
جسے مصروفیت کی شرح کہا جاتا ہے وہ ایک تقسیم ہے: ایک پوسٹ پر جتنے لوگوں نے کچھ کیا، تقسیم کریں کل فالوورز پر۔ بس یہی۔ رومن تلاش میں اس کے لیے حساب لگانے والے اوزار سب سے زیادہ ڈھونڈے جاتے ہیں، حالانکہ اس میں کوئی اوزار درکار ہی نہیں۔
اب اس تقسیم کے دو حصے الگ الگ دیکھیں:
- اوپر والا عدد آپ کے مواد سے آتا ہے۔ کتنے لوگوں نے واقعی کچھ کیا۔
- نیچے والا عدد آپ کی فہرست سے آتا ہے۔ کتنے لوگ نام پر موجود ہیں۔
نقلی فالوورز خریدنے پر جو ہوتا ہے وہ یہی ہے: نیچے والا عدد کئی گنا ہو جاتا ہے اور اوپر والا وہیں کھڑا رہتا ہے۔ اگر دو ہزار لوگوں میں سے ایک سو اسی کچھ کرتے تھے، اور اب فہرست میں چالیس ہزار ہیں مگر کرنے والے وہی ایک سو اسی ہیں، تو شرح ایک بٹا گیارہ سے گر کر ایک بٹا دو سو بائیس سے بھی نیچے چلی جاتی ہے۔
یعنی نقصان اس سے نہیں ہوتا کہ نقلی کھاتے کچھ برا کرتے ہیں۔ وہ کچھ کرتے ہی نہیں۔ نقصان اس سے ہوتا ہے کہ وہ تقسیم کرنے والے عدد میں شامل ہو جاتے ہیں۔
یہ عدد کون دیکھتا ہے
تین جگہوں پر، اور تینوں کا اثر الگ ہے:
- وہ خود آپ کے صفحے پر آنے والا۔ یہ سب سے فوری ہے اور اسے کسی اوزار کی ضرورت نہیں۔ ایک بڑا عدد اور اس کے نیچے خاموش پوسٹیں، یہ کوئی بھی دو سیکنڈ میں دیکھ لیتا ہے، اور نتیجہ اکثر یہ نکالتا ہے کہ یہ صفحہ سچا نہیں ہے۔
- وہ ادارہ جو آپ کو کام دینے کا سوچ رہا ہو۔ اس کے پاس بجٹ ہے اور وہ اسی شرح کو دیکھ کر فیصلہ کرتا ہے، عدد کو نہیں۔ یہ اس ساری بحث کا سب سے مہنگا حصہ ہے۔
- خود انسٹاگرام کا نظام۔ یہاں احتیاط ضروری ہے: یہ ایک اندازہ ہے۔ انسٹاگرام یہ نہیں بتاتا کہ وہ کس عدد کو کتنا وزن دیتا ہے۔ باقی دو جگہیں البتہ یقینی ہیں اور وہی کافی ہیں۔
صفائی: وہ بات جو اکثر نہیں بتائی جاتی
خریدے ہوئے فالوورز مستقل نہیں ہوتے۔ پلیٹ فارم وقتاً فوقتاً ایسے کھاتے خود ہٹا دیتا ہے، اور اس دن آپ کا عدد بغیر کسی وجہ کے گر جاتا ہے۔
اس کا نتیجہ سوچنے سے زیادہ برا ہوتا ہے۔ خرچ ہو چکا ہوتا ہے، عدد واپس نیچے آ جاتا ہے، اور درمیان کے عرصے میں آپ کی اپنی پیمائش خراب رہی ہوتی ہے۔ یعنی آپ کو نہ عدد ملا، نہ معلومات۔
اسی لیے اس بازار میں بار بار بھرنے والی شرائط کا ذکر آتا ہے۔ وہ اسی گرنے کا انتظام ہیں، اور یہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ گرنا معمول ہے، استثنا نہیں۔ شرائط کی تفصیل انسٹاگرام کی خدمات والے صفحے پر ہے۔
پھر کیا خریدنا سرے سے غلط ہے
نہیں، اور اس کے بارے میں سیدھی بات یہ ہے۔ ایک نئے صفحے کا بالکل خالی ہونا اپنی جگہ ایک مسئلہ ہے، اور اسے حل کرنے کے لیے تھوڑا سا خرچ ایک قابلِ فہم فیصلہ ہو سکتا ہے۔ مگر اس فیصلے کے ساتھ تین باتیں طے کر لیں:
- تناسب کا خیال رکھیں، عدد کا نہیں۔ اگر فالوورز اتنے بڑھ جائیں کہ آپ کی موجودہ پوسٹوں کا ردعمل مذاق لگنے لگے تو آپ نے مسئلہ حل نہیں کیا، صرف اس کی شکل بدلی ہے۔
- یہ ایک بار کا کام ہے، عادت نہیں۔ ہر مہینے دہرانے سے آپ کی فہرست میں وہ لوگ جمع ہوتے رہتے ہیں جو کبھی کچھ نہیں کریں گے۔
- پہلے مواد، پھر عدد۔ خالی صفحے پر بڑا عدد سب سے زیادہ شک پیدا کرتا ہے۔
اور یاد رکھیں کہ کوئی بھی بیرونی حساب لگانے والا اوزار آپ کے کھاتے کے اندر نہیں دیکھ سکتا۔ وہ صرف عوامی اعداد سے تقسیم کرتا ہے، جو آپ خود بھی کر سکتے ہیں۔ آپ کے اپنے کھاتے کے اندر جو اعداد ہیں، وہ ان سب سے زیادہ درست ہیں۔
فہرست پہلے سے خراب ہو چکی ہو تو صفائی کا طریقہ نقلی فالوورز ہٹانے والے صفحے پر ہے، اور یہ لوگ آتے کہاں سے ہیں، یہ خاموش فالوورز والے صفحے پر۔



