انسٹاگرام سے کمائی: پہلا سوال فالوورز کا نہیں، ملک کا ہے
رومن میں اس موضوع کی پہلی تجویز ہی "پاکستان میں" ہے، اور تین الگ سوال یہ پوچھتے ہیں کہ یہاں یہ چلتا بھی ہے یا نہیں۔ اس صفحے پر اسی سوال کی شکل صاف کی گئی ہے۔
Avery Bennettاردو میں یہ ان چند موضوعات میں سے ایک ہے جو اپنے رسم الخط میں زندہ ہے۔ "انسٹاگرام سے پیسے" لکھیں تو پہلی دو تجاویز پورا جملہ رکھتی ہیں: کمانے کا طریقہ، اور کمانا۔ زیادہ تر دوسرے موضوعات پر اردو رسم الخط میں لفظ ٹوٹ جاتا ہے، یہاں نہیں۔
اور رومن میں پہلی تجویز ہی "پاکستان میں" ہے۔ تین الگ سوال یہ پوچھتے ہیں کہ یہ یہاں چلتا بھی ہے یا نہیں۔ اس لیے یہ صفحہ طریقوں کی فہرست سے شروع نہیں ہوتا، ملک کے سوال سے شروع ہوتا ہے۔
دو الگ دنیائیں: ایپ کے اندر اور ایپ کے باہر
یہ فرق ہر چیز طے کرتا ہے اور تقریباً کوئی رہنمائی اسے الگ نہیں کرتی۔
- ایپ کے اندر کی کمائی۔ انسٹاگرام خود آپ کو پیسے دے۔ اس میں انعامی رقم، ناظرین کے بھیجے ہوئے تحفے، اور ماہانہ رکنیت جیسی چیزیں آتی ہیں۔ یہ سب ملک کی شرط کے تابع ہیں۔
- ایپ کے باہر کی کمائی۔ کوئی اور آپ کو پیسے دے، اور انسٹاگرام صرف وہ جگہ ہو جہاں معاملہ ہوا۔ اس میں کسی ادارے کا کام، کسی چیز کا حوالہ دے کر کمیشن، اور اپنی کوئی چیز یا خدمت بیچنا آتا ہے۔ ان پر ملک کی کوئی شرط نہیں۔
تقریباً ساری الجھن اسی سے پیدا ہوتی ہے کہ لوگ دونوں کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں۔ پہلی قسم بند ہو تو دوسری قسم بالکل کھلی رہتی ہے، اور اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔
ملک کا سوال: جو کہا جا سکتا ہے اور جو نہیں
یہاں ایک بات صاف کہنی ضروری ہے۔ یہ صفحہ آپ کو یقین سے نہیں بتا سکتا کہ آج پاکستان کے کھاتوں کے لیے ایپ کے اندر کون سا پروگرام کھلا ہے۔
وجہ یہ نہیں کہ تحقیق نہیں کی گئی۔ وجہ یہ ہے کہ:
- ہر پروگرام کی اپنی الگ فہرست ہے۔ ایک کھلا ہو تو ضروری نہیں کہ دوسرا بھی ہو۔
- یہ فہرستیں بغیر اعلان کے بدلتی رہتی ہیں۔
- اس وقت جو معلومات باہر موجود ہیں وہ آپس میں متضاد ہیں۔ کچھ ذرائع کہتے ہیں کہ کچھ پروگرام یہاں سے استعمال ہو رہے ہیں، اور کچھ فہرستوں میں یہ ملک شامل نہیں۔
اس صورت میں کوئی بھی صفحہ جو حتمی جواب لکھ دے، وہ اندازہ لکھ رہا ہے۔ اکلوتی معتبر جگہ آپ کا اپنا کھاتہ ہے۔ کھاتے کو پیشہ ورانہ بنائیں اور اس کے اندر کمائی والا خانہ کھول کر دیکھیں۔ وہاں جو لکھا ہے وہ آج کا سچ ہے اور کسی مضمون کا لکھا ہوا نہیں۔ یہ دیکھنے میں دو منٹ لگتے ہیں اور ہفتوں کی الجھن ختم ہو جاتی ہے۔
سو فالوورز، ہزار فالوورز: سیدھا جواب
رومن تلاش میں دو الگ سوال یہی پوچھتے ہیں، اس لیے یہ سیدھا لکھا جانا چاہیے۔
جواب دو حصوں میں ہے، اور یہ اوپر والی تقسیم پر ہی چلتا ہے:
- ایپ کے اندر کی کمائی کے لیے واقعی حدیں ہوتی ہیں، اور وہ ہر پروگرام کے لیے الگ ہیں۔ کچھ نسبتاً کم ہیں اور کچھ بہت اوپر۔
- ایپ کے باہر کی کمائی کے لیے کوئی حد نہیں۔ کوئی قاعدہ نہیں کہتا کہ سو فالوورز والا اپنی کوئی چیز نہیں بیچ سکتا۔ ایک محلے کی دکان کے دو سو فالوورز اسی محلے کے ہوں تو وہ ایک ایسے صفحے سے زیادہ کماتے ہیں جس کے دس ہزار فالوورز بکھرے ہوئے ہوں۔
اس لیے اگر آپ کے پاس ابھی سو فالوورز ہیں تو انتظار کی کوئی وجہ نہیں۔ صرف اس راستے کا انتخاب کریں جو حد نہیں مانگتا۔
تین راستے، اور ہر ایک کس کے لیے ہے
ایپ کے باہر کی کمائی کے تین اصل راستے ہیں اور ان کا انتخاب اس بنیاد پر ہوتا ہے کہ آپ کے پاس پہلے سے کیا ہے:
- اگر آپ کے پاس بیچنے کو کوئی چیز ہے۔ یہ سب سے سیدھا اور سب سے تیز راستہ ہے، اور اسی میں فالوورز کی حد سب سے کم اہم ہے۔ اس کا پورا طریقہ بغیر ویب سائٹ فروخت والے صفحے پر ہے۔
- اگر آپ کے پاس ایک خاص موضوع اور اس کے سننے والے ہیں۔ تو ادارے کا کام سب سے زیادہ کمانے والا راستہ ہے۔ اس کا طریقہ اشتہاری معاہدے والے صفحے پر۔
- اگر آپ کے پاس ابھی دونوں میں سے کچھ نہیں۔ تو کسی چیز کا حوالہ دے کر کمیشن سب سے کم رکاوٹ والا راستہ ہے، کیونکہ اس کے لیے نہ سامان چاہیے نہ معاہدہ۔ مگر یہ سب سے سست بھی ہے اور اسی پر بھروسہ سب سے جلدی ٹوٹتا ہے، اس لیے صرف وہ چیز تجویز کریں جو آپ نے خود استعمال کی ہو۔
اور وہ قدم جو سب سے آخر میں سوچا جاتا ہے
کمائی کا فیصلہ کرنے کے بعد ایک اور مرحلہ ہوتا ہے جو تقریباً ہر رہنمائی میں غائب ہے: رقم آپ تک پہنچے گی کیسے۔
یہ خاص طور پر تب اہم ہے جب کام دینے والا ملک سے باہر ہو۔ اس صورت میں رقم وصول کرنے کا انتظام پہلے سے طے ہونا چاہیے، معاہدے کے بعد نہیں۔ یہ صفحہ آپ کو کوئی خاص طریقہ تجویز نہیں کر سکتا اور نہ ہی کرے گا، کیونکہ یہ ہر شخص کے اپنے حالات پر منحصر ہے۔ مگر ایک بات یقینی ہے: اگر یہ بات پہلے طے نہ ہو تو معاہدہ ہو جانے کے بعد یہی سب سے بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔
اور آخر میں ایک بات جو اس صفحے پر نہیں ملے گی: کوئی عدد۔ فی ہزار ناظر اتنا ملتا ہے، ایک پوسٹ کا اتنا ملتا ہے، یہ سب اعداد تقریباً ہر جگہ بغیر کسی بنیاد کے لکھے ہوتے ہیں۔ آپ کے شعبے میں اصل نرخ صرف اس ایک طریقے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ اپنے جیسے دو تین لوگوں سے پوچھ لیں۔



