کوکی سے انسٹاگرام میں داخل ہونا: یہ چابی نہیں، کھلا ہوا دروازہ ہے
اردو میں یہ لفظ لکھیں تو بادام اور چاکلیٹ والے بسکٹ کی ترکیبیں آ جاتی ہیں۔ یہاں اس کا مطلب اور ہے، اور اس کی سب سے بڑی خامی اسی فرق میں چھپی ہے۔
Avery Bennettاردو میں "کوکیز" لکھ کر تلاش کریں تو جو دس تجاویز آتی ہیں وہ سب فارسی کی ہیں اور سب بسکٹ کے بارے میں: چاکلیٹ والے، بادام والے، ادرک والے، ایک بیکری کا نام۔ براؤزر والا مطلب اردو رسم الخط میں سرے سے موجود ہی نہیں۔
یہ صرف تلاش کی ایک دلچسپی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس موضوع پر اردو میں کچھ لکھا ہی نہیں گیا، اور جو لوگ اسے استعمال کرتے ہیں انہوں نے یہ کہیں اور سے سیکھا ہے، عام طور پر ادھوری صورت میں۔ سب سے بڑی غلط فہمی یہی ہے کہ اسے پاس ورڈ کا متبادل سمجھ لیا جاتا ہے۔
یہ چیز ہے کیا
پاس ورڈ ایک چابی ہے۔ آپ اسے استعمال کریں تو دروازہ کھلتا ہے، اور اگلی بار پھر کھل جائے گا۔
کوکی چابی نہیں۔ وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ دروازہ پہلے سے کھلا ہوا ہے۔ کسی نے کہیں پاس ورڈ ڈال کر داخلہ کیا، اور انسٹاگرام نے اس کے براؤزر کو ایک عارضی کاغذ دے دیا جس کا مطلب ہے "یہ اندر آ چکا ہے"۔ اسی کاغذ کی نقل آپ کے پاس آتی ہے۔
اس فرق سے تین باتیں خود بخود نکل آتی ہیں، اور تینوں اہم ہیں:
- یہ مر سکتی ہے، اور مرتی ہے۔ پاس ورڈ کی کوئی مدت نہیں ہوتی، کوکی کی ہوتی ہے۔
- یہ آپ کے قابو میں نہیں۔ جس کے پاس اصل پاس ورڈ ہے وہ کسی بھی وقت اسے بدل کر یا سیشن ختم کر کے آپ کی کوکی بے کار کر سکتا ہے۔
- یہ کھویا ہوا اکاؤنٹ واپس نہیں دلاتی۔ اگر آپ باہر ہو چکے ہیں تو آپ کے پاس کوکی ہوگی ہی نہیں۔ کوکی صرف اس صورت میں ملتی ہے جب کوئی پہلے سے اندر ہو۔
تیسری بات اس لیے صاف لکھی جا رہی ہے کہ اس موضوع پر انگریزی میں سب سے زیادہ تلاش کیا جانے والا جملہ ہے "بغیر پاس ورڈ، بغیر ای میل، بغیر نمبر لاگ ان"۔ اس امید سے آنے والوں کے لیے جواب صاف ہے: ایسا کوئی راستہ نہیں ہے۔ جو صفحہ یا اوزار ایسا دعویٰ کرے وہ یا تو رقم لے کر غائب ہو جائے گا یا آپ ہی کی معلومات لے لے گا۔
ڈالنے کا طریقہ
یہ کام کمپیوٹر کے براؤزر پر ہوتا ہے، فون کی ایپ پر نہیں۔ ترتیب یہ ہے:
- ایک صاف پروفائل کھولیں، یا کم از کم موجودہ سیشن سے باہر نکل جائیں۔ اپنے اکاؤنٹ اور نئے کے سیشن ایک ہی جگہ رکھنے سے دونوں الجھ جاتے ہیں۔
- انسٹاگرام کا صفحہ کھولیں اور اس کی موجودہ کوکیز صاف کر دیں۔ پرانی باقیات نئی کوکی کو ناکام بنا دیتی ہیں۔
- براؤزر کے ڈویلپر خانے میں جا کر کوکیز والا حصہ کھولیں اور دی گئی قدریں شامل کریں۔ داخلے کے لیے جو سب سے ضروری ہے وہ سیشن والی ہوتی ہے، مگر عام طور پر اس کے ساتھ صارف کی شناخت اور ایک حفاظتی قدر بھی درکار ہوتی ہے۔
- ڈومین اور راستہ درست لکھیں۔ یہی سب سے عام غلطی ہے: ڈومین کے شروع میں نقطہ رہ جانا یا راستہ خالی چھوڑ دینا کوکی کو بے اثر کر دیتا ہے۔
- صفحہ تازہ کریں۔ سیشن زندہ ہو تو داخلہ فوراً ہو جاتا ہے، بغیر کسی کوڈ کے۔
اگر یہ ہاتھ سے کرنا مشکل لگے تو براؤزر میں کوکیز کو درآمد کرنے والی توسیعات موجود ہیں، جو یہی کام ایک قدم میں کر دیتی ہیں۔ ان کے بارے میں ایک احتیاط: توسیع کو آپ کی ساری کوکیز پڑھنے کا اختیار مل جاتا ہے، اپنے بینک اور اپنے ای میل کی بھی۔ اسی لیے یہ کام اسی پروفائل میں کریں جس میں آپ کے اپنے اہم کھاتے موجود نہ ہوں۔
کام نہیں کر رہی تو
ناکامی کی وجہ عام طور پر ان میں سے ایک ہوتی ہے، اور ترتیب سے دیکھنا وقت بچاتا ہے:
- سیشن ختم ہو چکا ہے۔ سب سے عام وجہ۔ اس کا کوئی علاج نہیں، نئی کوکی چاہیے۔
- پرانی کوکیز صاف نہیں ہوئیں۔ دوسری سب سے عام وجہ۔
- ڈومین یا راستہ غلط لکھا گیا۔
- کوئی ضروری قدر رہ گئی۔ ایک آدھ قدر کے بغیر صفحہ کھلتا تو ہے مگر ہر عمل پر روک لگ جاتی ہے۔
- انسٹاگرام کو جگہ کا اچانک بدلنا نظر آ گیا۔ اگر سیشن کسی اور ملک سے بنا تھا اور آپ یہاں سے کھول رہے ہیں تو جانچ لگ سکتی ہے۔
خریدے ہوئے اکاؤنٹ کی صورت میں: پہلا گھنٹہ
یہ سب سے کام کی بات ہے اور اس کی وجہ اعداد میں ہے۔ اس سائٹ پر موجود اشتہاروں کی ضمانت کا درمیانی عدد بارہ گھنٹے ہے، اور نیچے کا دسواں حصہ تقریباً آدھے گھنٹے پر ہے۔ ہر چوتھے اشتہار کی ضمانت ایک گھنٹے سے کم ہے۔
یعنی اگر کوکی نہ چلے تو آپ کے پاس بات اٹھانے کے لیے گھنٹے ہیں، دن نہیں۔ اس لیے ترتیب یہ ہونی چاہیے:
- ملتے ہی آزمائیں۔ کچھ اور کرنے سے پہلے صرف یہ دیکھیں کہ داخلہ ہو رہا ہے۔
- نہ ہو تو فوراً بات اٹھائیں۔ اسکرین شاٹ کے ساتھ۔ انتظار سے صورتحال بہتر نہیں ہوتی، صرف مہلت کم ہوتی ہے۔
- ہو جائے تو سیشن کو مستقل بنانے کی کوشش کریں۔ کوکی عارضی ہے، اس لیے اصل کام یہ ہے کہ داخلے کا ایک ایسا راستہ بن جائے جو آپ کے قابو میں ہو۔ اگر آپ کے پاس خفیہ کنجی ہو تو کوڈ اسی سائٹ کے اوزار سے بنایا جا سکتا ہے۔
ایک اور بات جو تنازعے کے وقت اہم ہو جاتی ہے: اگر آپ نے بات اٹھائی اور اس سے جڑے سارے ٹکٹ بند ہو گئے تو تین دن بعد نظام خود معاملہ بیچنے والے کے حق میں ختم کر دیتا ہے۔ اس لیے معاملہ حل ہونے سے پہلے ٹکٹ بند نہ کریں۔
اس شیلف کی تفصیل انسٹاگرام اکاؤنٹ والے صفحے پر ہے، اور خریدنے کے بعد کی مکمل ترتیب حفاظت والے صفحے پر۔


