اردو میں واٹس ایپ اکاؤنٹ خریدیں لکھنے پر گوگل انسٹال اور ڈیلیٹ کرنے کے مشورے دکھاتا ہے۔ پاکستان سے جو سوال واقعی پوچھا جاتا ہے وہ امریکی نمبر کا ہے، اور اس فہرست کے اپنے اعداد بھی یہی کہتے ہیں: سب سے زیادہ بکنے والی چیز ایک نمبر ہے، تیار اکاؤنٹ نہیں۔
ترتیب دیں:
کیٹلاگ صرف آن ہے — صرف کیٹلاگ اور فلٹرز دکھائے جا رہے ہیں۔
اس فہرست کی ساری فروخت چند قطاروں پر ٹھہری ہوئی ہے
یہاں تقریباً ڈیڑھ سو چیزیں لگی ہوئی ہیں، مگر آج تک کوئی یونٹ صرف چار قطاروں سے بکا ہے۔ باقی سب کا شمار صفر پر ہے۔ یہ ایک غیر معمولی بات ہے اور خریدنے والے کے لیے سب سے کام کی۔
کیا بکا
یہ اصل میں کیا ہے
قیمت کے لحاظ سے
امریکی نمبر برائے تصدیقی کوڈ
اکاؤنٹ نہیں۔ آپ کو کوڈ ملتا ہے اور اکاؤنٹ آپ خود بناتے ہیں۔ ترسیل ہاتھ سے، گفتگو کے ذریعے۔
فہرست کی درمیانی قیمت کے ایک تہائی سے بھی کم
ایمولیٹر کے بیک اپ کے ساتھ اکاؤنٹ
ایک تیار حالت کی فائل جو آپ اپنے ایمولیٹر میں کھولتے ہیں۔ دو مشہور ایمولیٹروں کے لیے الگ الگ۔
درمیانی قیمت کے نصف سے کم
بغیر شکل بتائے ملک کے نام والی قطاریں
زیادہ تر عنوان میں صرف ملک لکھا ہے اور شکل نہیں۔ ان میں سے کسی سے کچھ نہیں بکا۔
درمیانی قیمت کے آس پاس یا اوپر
سب سے زیادہ بکنے والی قطار کو غور سے پڑھیں: وہ اکاؤنٹ بیچتی ہی نہیں۔ وہ ایک امریکی نمبر دیتی ہے جس پر تصدیقی کوڈ آتا ہے، اور اکاؤنٹ آپ اپنے فون یا ایمولیٹر پر خود بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس صفحے پر پہلا سوال قیمت نہیں بلکہ شکل ہے۔
اس سے پہلا فیصلہ نکلتا ہے اگر آپ کو اپنا اکاؤنٹ اپنے آلے پر چاہیے تو نمبر والی قطار آپ کے لیے ہے۔ اگر آپ کو ایک ایسا اکاؤنٹ چاہیے جو پہلے سے چل رہا ہو تو بیک اپ فائل والی قطار دیکھیں، مگر یہ جان لیں کہ اسے کھولنے کے لیے وہی ایمولیٹر درکار ہوگا جس کا نام عنوان میں لکھا ہے۔
ملک کا نشان
ملک کے نام والی قطاریں سب سے زیادہ خالی ملتی ہیں
اس فہرست کی ہر تین میں سے تقریباً ایک چیز کے پاس مال نہیں ہے، اور یہ خالی پن یکساں نہیں بٹا ہوا۔ جن قطاروں کے عنوان میں صرف ملک کا نام لکھا ہے وہ اوسط سے زیادہ خالی نکلتی ہیں۔
عنوان میں ملک
کتنی قطاریں
کتنی میں مال موجود
امریکہ
اکیس، سب سے زیادہ
سترہ
برطانیہ
دس
چھ
کینیڈا
نو
آٹھ
جرمنی
سات
پانچ
انڈونیشیا، ہالینڈ، فلپائن
چار چار
ہر ایک میں دو
پاکستان
دو
ایک
پوری فہرست میں تقریباً ستر فیصد چیزوں کے پاس مال ہے، مگر کئی ملکوں کی قطاروں میں یہ آدھی رہ جاتی ہے۔ اسی لیے ملک سے چھانٹنے کے بعد بھی مال کی موجودگی الگ سے دیکھنی پڑتی ہے، ورنہ فہرست اصل سے زیادہ بھری ہوئی لگتی ہے۔
مہنگا ملک وہ نہیں جو آپ سوچتے ہیں
جہاں کم از کم پانچ قطاریں موجود ہیں وہاں سیڑھی یوں چلتی ہے: کینیڈا سب سے سستا، پھر امریکہ، پھر برطانیہ۔ جرمنی درمیانی قیمت سے تقریباً ڈیڑھ گنا اور برازیل تقریباً دو گنا۔ یعنی مغربی ملک یہاں مہنگے نہیں، وہ سب سے عام ہیں اور اسی لیے سستے۔
پاکستان کے بارے میں کیا کہا جا سکتا ہے
صرف دو قطاروں پر پاکستان لکھا ہے اور ان میں سے ایک کے پاس مال ہے۔ اتنی کم تعداد پر قیمت کی کوئی شرح نکالنا درست نہیں ہوگا۔ اگر آپ کو مقامی نمبر چاہیے تو یہ فہرست وہ جگہ نہیں جہاں سے وہ باقاعدگی سے ملے گا۔
شکل کا فرق
تین مختلف چیزیں ایک ہی فہرست میں ساتھ لگی ہیں
یہاں عنوان پڑھے بغیر آرڈر دینا سب سے عام غلطی ہے، کیونکہ ملنے والی چیز کی شکل ایک قطار سے دوسری تک بالکل بدل جاتی ہے۔
نمبر آپ کو ایک نمبر اور اس پر آنے والا کوڈ ملتا ہے۔ اکاؤنٹ آپ بناتے ہیں، اس لیے اس کا کنٹرول شروع سے آپ کے پاس ہوتا ہے۔
بیک اپ فائل ایک تیار حالت جو مخصوص ایمولیٹر میں کھلتی ہے۔ وہی ایمولیٹر نہ ہو تو فائل بے کار ہے۔
تیار لاگ اِن اکاؤنٹ پہلے سے بنا ہوا اور کسی اور کے نمبر پر ہے۔ سب سے کم اختیار اسی میں ملتا ہے۔
کاروباری اکاؤنٹ گیارہ قطاریں کاروباری قسم کی ہیں۔ ان کا مقصد الگ ہے اور ان میں سے کوئی بھی ابھی تک نہیں بکی۔
ایک بات جو فہرست خود نہیں بتاتی اس فہرست پر ترسیل کے خانے میں ہر چیز فوری لکھی ہے، مگر سب سے زیادہ بکنے والی قطار اپنے عنوان میں صاف کہتی ہے کہ ترسیل ہاتھ سے گفتگو کے ذریعے ہوگی۔ یعنی وہ خانہ اس شیلف پر کوئی معلومات نہیں دیتا۔ جو خانہ واقعی مختلف ہے وہ یہ ہے کہ مال ذخیرے سے آ رہا ہے یا ہاتھ سے تیار ہوگا، اور یہاں ہاتھ سے تیار ہونے والی قطاروں کی تعداد اکاؤنٹ کی کسی بھی دوسری فہرست سے زیادہ ہے۔
نشانات کی قیمت
پریمیم یہاں مہنگا ہے، حالانکہ ہر جگہ نہیں ہوتا
ایک ہی لفظ مختلف فہرستوں پر مختلف قیمت رکھتا ہے، اور یہ اس فہرست کو دوسری فہرستوں کے مقابلے میں سمجھنے کا سب سے تیز طریقہ ہے۔
⬆️ستاسی قطاریں
پریمیم درمیانی قیمت سے اوپر
یہاں یہ نشان درمیانی قیمت سے تقریباً ڈیڑھ گنا پر بیٹھا ہے۔ ایپل والی فہرست پر یہی لفظ درمیانی قیمت کے آدھے پر ہے۔ ایک لفظ، دو فہرستیں، الٹے نتیجے۔ اسی لیے لفظ کے بجائے تناسب دیکھنا پڑتا ہے۔
📲سڑسٹھ قطاریں
کوڈ سے تصدیق شدہ ہونا قیمت بڑھاتا ہے
یہ نشان درمیانی قیمت سے تقریباً سوا گنا پر ہے۔ اس شیلف پر یہی وہ چیز ہے جو اصل میں مشکل ہے، کیونکہ ایک اصلی نمبر کے بغیر یہ اکاؤنٹ وجود میں ہی نہیں آتا۔
⬇️ستائیس قطاریں
امریکی رجسٹریشن آئی پی سستا
یہ نشان درمیانی قیمت کے تقریباً تین چوتھائی پر ہے۔ اس فہرست میں مہنگی چیز وہ نہیں جو کہاں سے جڑی، بلکہ وہ ہے جس کا نمبر اصلی اور تصدیق شدہ ہو۔
واٹس ایپ کی فہرست پر آرڈر سے پہلے
یہ باتیں اسی شیلف کے اپنے اعداد سے نکلی ہیں۔
1
شکل پہلے، ملک بعد میں
نمبر، بیک اپ فائل اور تیار لاگ اِن تین الگ چیزیں ہیں اور ان کا آپس میں قیمت کا موازنہ بے معنی ہے۔ پہلے یہ طے کریں کہ آپ کو کون سی چاہیے، پھر اسی قسم کے اندر ملک دیکھیں۔
2
مال کی موجودگی الگ سے جانچیں
اس فہرست کی تقریباً ایک تہائی قطاریں خالی ہیں اور ملک کے نام والی قطاروں میں یہ تناسب اور خراب ہے۔ خالی قطار فہرست میں نظر آتی رہتی ہے، اس لیے اس پر وقت لگانے سے پہلے مال دیکھ لیں۔
3
وارنٹی کی مدت غیر مساوی ہے
یہاں تریسٹھ قطاروں پر یہ مدت بارہ گھنٹے ہے، باون پر تقریباً پانچ منٹ اور پانچ پر پورا ایک سال لکھا ہے۔ اتنا بڑا فرق ایک ہی فہرست میں غیر معمولی ہے، اس لیے آرڈر سے پہلے یہ خانہ الگ سے پڑھیں اور مدت شروع ہوتے ہی جانچ لیں۔
4
ایک ہی نمبر پر دو جگہ داخل نہیں ہوا جاتا
یہ سروس ایک وقت میں ایک ہی جگہ چلتی ہے، اس لیے وہی آلہ یا ایمولیٹر پہلے سے تیار رکھیں جہاں آپ اسے چلانا چاہتے ہیں۔ کوڈ آنے کے بعد جگہ بدلنے کی کوشش سب سے عام نقصان ہے۔
حالیہ جائزے
خریداروں کے جائزے WhatsApp
اس زمرے میں مکمل شدہ آرڈرز سے ریٹنگز آتی ہیں۔ جن خریداروں نے تحریری رائے دی ہے وہ پہلے ظاہر ہوتے ہیں۔
تحریری جائزے2.3 · 3تمام آرڈر کی درجہ بندی2.3 · 3ان میں مکمل شدہ آرڈرز کے لیے طے شدہ ریٹنگز شامل ہیں جنہیں خریدار نے کبھی ریٹ نہیں کیا۔
اس زمرے کے بارے میں فوری جوابات۔ جواب مکمل پڑھنے کے لیے سوال کو پھیلائیں۔
کیا مجھے نمبر لینا چاہیے یا بنا بنایا اکاؤنٹ
اگر آپ کو اکاؤنٹ اپنے قبضے میں چاہیے تو نمبر بہتر ہے، کیونکہ اکاؤنٹ آپ خود بناتے ہیں اور شروع سے اس کا اختیار آپ کے پاس رہتا ہے۔ اس فہرست کی سب سے زیادہ بکنے والی قطار یہی ہے اور وہ درمیانی قیمت کے ایک تہائی سے بھی کم پر ہے۔ بنا بنایا اکاؤنٹ اس وقت کام کا ہے جب آپ کو ایک ایسا اکاؤنٹ چاہیے جو پہلے سے چل رہا ہو، مگر اس کا نمبر کسی اور کا ہوتا ہے۔
ایمولیٹر کے بیک اپ کا کیا مطلب ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو ایک تیار حالت کی فائل ملتی ہے جو کسی مخصوص ایمولیٹر میں کھلتی ہے، اور عنوان میں اس ایمولیٹر کا نام لکھا ہوتا ہے۔ اس فہرست پر دو مشہور ایمولیٹروں کے لیے الگ الگ قطاریں ہیں اور یہی وہ دو اکاؤنٹ والی قطاریں ہیں جن سے واقعی فروخت ہوئی ہے۔ اگر آپ کے پاس وہی ایمولیٹر نہیں ہے تو فائل آپ کے کام نہیں آئے گی، اس لیے خریدنے سے پہلے وہ سافٹ ویئر تیار رکھیں۔
کیا پاکستانی نمبر والا اکاؤنٹ مل سکتا ہے
اس وقت اس فہرست پر پاکستان کا نام صرف دو قطاروں پر لکھا ہے اور ان میں سے ایک کے پاس مال ہے۔ اتنی کم تعداد پر نہ قیمت کی کوئی بات کی جا سکتی ہے اور نہ باقاعدہ دستیابی کا بھروسہ دیا جا سکتا ہے۔ اگر آپ کا کام مقامی نمبر سے بندھا ہوا ہے تو یہ فہرست اس کے لیے موزوں نہیں۔ جو چیز یہاں باقاعدگی سے موجود ہے وہ امریکی، کینیڈین اور برطانوی نمبر ہیں۔
ترسیل فوری لکھی ہے مگر کہا جاتا ہے کہ گفتگو میں ملے گا
اس فہرست پر ترسیل کا خانہ ہر قطار پر ایک جیسا ہے، اس لیے وہ کوئی فرق نہیں بتاتا۔ اصل فرق عنوان میں لکھا ہوتا ہے، اور سب سے زیادہ بکنے والی قطار صاف کہتی ہے کہ نمبر ہاتھ سے گفتگو کے ذریعے دیا جائے گا۔ اس فہرست پر ہاتھ سے تیار ہونے والی قطاروں کی تعداد اکاؤنٹ کی باقی فہرستوں سے زیادہ ہے، اس لیے یہاں یہ توقع رکھنا کہ ہر چیز خودکار طور پر فوراً پہنچے گی، درست نہیں۔
ایک سال کی وارنٹی والی قطاریں کیا ہیں
پانچ قطاروں پر یہ مدت واقعی ایک سال درج ہے، جبکہ باون پر تقریباً پانچ منٹ اور تریسٹھ پر بارہ گھنٹے ہے۔ ایک ہی فہرست میں اتنا فرق عام نہیں۔ مدت ترسیل سے شروع ہوتی ہے، ادائیگی سے نہیں، اور نشان صرف اس لمحے کی بات کرتا ہے جب چیز فہرست پر لگی۔ عملی مشورہ یہ ہے کہ لمبی مدت کو وجہ بنا کر جانچنے میں دیر نہ کریں، کیونکہ زیادہ تر قطاروں پر یہ کھڑکی منٹوں کی ہے۔
کاروباری اکاؤنٹ اور عام اکاؤنٹ میں کیا فرق ہے
اس فہرست پر گیارہ قطاریں کاروباری قسم کی ہیں اور ان میں سے ابھی تک کوئی نہیں بکی۔ کاروباری قسم کا مقصد پیغام رسانی کے بجائے کاروباری پروفائل اور خودکار جواب دینا ہوتا ہے، اور اس کے لیے درکار معلومات بھی مختلف ہیں۔ اگر آپ کا مقصد صرف عام گفتگو یا تصدیق ہے تو کاروباری قطار کی طرف جانے کی کوئی وجہ نہیں۔